Bangladesh factory closures highlight a harsh truth: supply chains break fast. Here’s how Pakistan’s RMG can use AI for planning, QC, compliance, and buyer trust.

Bangladesh closures: Pakistan RMG AI resilience playbook
دسمبر 2025 میں بنگلہ دیش کے بڑے گارمنٹس ہبز (Gazipur، Savar، Narayanganj) میں سیاسی بے چینی کی وجہ سے فیکٹریاں بند ہوئیں تو ایک بات بالکل واضح ہوگئی: ہمارا ریجن ایک ہی سپلائی چین پر سانس لیتا ہے، اور ایک ملک کی بندش دوسرے ملک کے آرڈرز، ڈیڈ لائنز اور کیش فلو کو ہلا دیتی ہے۔
یہ خبر پاکستان کے لیے “دور کی بات” نہیں۔ خاص طور پر سال کے آخر میں—جب یورپ اور امریکہ میں holiday کے بعد Spring/Summer سیلیز کے لیے بائرز دوبارہ پلاننگ کرتے ہیں—ایسی رکاوٹیں سورسنگ میپس میں تیزی سے شفٹ لاتی ہیں۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس انڈسٹری کے لیے یہ موقع بھی ہے اور وارننگ بھی: موقع اس لیے کہ بائرز متبادل سرچ کرتے ہیں؛ وارننگ اس لیے کہ اگر ہماری اپنی آپریشنل ریسیلینس کمزور رہی تو فائدہ کسی اور کو ہوگا۔
اس پوسٹ کو میں اسی سیریز کے تناظر میں رکھ رہا ہوں: “پاکستان میں ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کی صنعت کو مصنوعی ذہانت کیسے تبدیل کر رہی ہے”۔ بنگلہ دیش کی بندش ہمیں بتاتی ہے کہ ریسیلینس اب ‘nice to have’ نہیں، بیسک ضرورت ہے—اور AI اس کا عملی راستہ ہے۔
سیاسی/سیکیورٹی رکاوٹیں سپلائی چین کو کہاں توڑتی ہیں؟
جواب سیدھا ہے: جہاں آپ کے پاس حقیقی وقت (real-time) ڈیٹا نہیں، وہاں آپ کی پلاننگ اندھیرے میں ہوتی ہے۔
بنگلہ دیش کے کیس میں فیکٹری بندش کی وجوہات واضح تھیں: ورکر سیفٹی کے خدشات، ٹرانسپورٹ ڈسruption، اور سیکیورٹی رسک۔ لیکن اثرات صرف “آج کی پروڈکشن” تک محدود نہیں رہتے۔ عملی طور پر تین جگہ نقصان ہوتا ہے:
- پروڈکشن شیڈول: لائن بیلنسنگ، ان پٹ میٹیریل کی ایویلیبیلٹی، اور آؤٹ پٹ ڈیلیوری سب ری سیٹ ہوتے ہیں۔
- کوالٹی اور کمپلائنس: جب ٹیمیں کم، شفٹس متاثر، یا سپروِژن کمزور ہو تو ری ورک اور ریجیکشن رسک بڑھتا ہے۔
- بائر کمیونیکیشن: بائرز کو “کتنا لیٹ ہوگا” سے زیادہ “کیا آپ کنٹرول میں ہیں؟” جاننا ہوتا ہے۔
پاکستانی ایکسپورٹرز اکثر یہاں پھنس جاتے ہیں کیونکہ اپ ڈیٹس manual ہوتی ہیں—Excel، WhatsApp، اور زبانی رپورٹنگ۔ بحران میں یہ سسٹم سب سے پہلے ٹوٹتا ہے۔
پاکستان کے لیے اصل سبق: ریسیلینس = AI + پروسیس ڈسپلن
ریسیلینس کا مطلب فیکٹری کو ہر حال میں کھلا رکھنا نہیں؛ مطلب ہے کہ بندش یا رکاوٹ کے باوجود آپ کم سے کم نقصان کے ساتھ پلان بدل سکیں۔
میں واضح اسٹانس لوں گا: اگر آپ کی مل/فیکٹری میں AI کو صرف “QC camera” سمجھا جاتا ہے تو آپ غلط سمت میں ہیں۔ AI کا بڑا فائدہ end-to-end ہے—پلاننگ سے لے کر کمیونیکیشن تک۔
پاکستان کے کانٹیکسٹ میں (جہاں لوڈشیڈنگ، لاجسٹکس، ہڑتالیں، سیاسی صورتحال، اور امپورٹ/کسٹمز delays حقیقی مسئلہ ہیں) AI تین کام خاص طور پر ٹھیک کرتا ہے:
- Predictive planning: “اگر یہ ہوا تو کیا ہوگا؟” کی فاسٹ simulation
- Real-time monitoring: فیکٹری اور سپلائر نیٹ ورک میں live signals
- Digital communication: بائر، وینڈر، اور اندرونی ٹیموں کے لیے ایک سچ (single source of truth)
1) AI-driven predictive planning: بحران سے پہلے پلان B تیار
جواب یہ ہے کہ AI آپ کو ‘what-if’ پلاننگ مشین بنا دیتا ہے۔
عملی مثال: اگر آپ کا ایک stitching یونٹ 48 گھنٹے بند ہو جائے یا workforce 30% کم دستیاب ہو، تو AI-اسسٹڈ شیڈولنگ (APS/advanced planning) یہ فوراً نکال سکتی ہے کہ:
- کون سے styles پہلے چلیں تاکہ late penalties کم ہوں
- کس PO کو split کر کے دوسرے یونٹ/سب کان کو دینا بہتر ہے
- کون سی trims/fabrics bottleneck بنیں گے
- overtime vs subcontracting میں کون سا سستا پڑے گا
یہ سب manual بھی ہو سکتا ہے، مگر بحران میں manual “slow and سیاسی” ہوتا ہے۔ AI کا فائدہ speed اور consistency ہے۔
پاکستانی گارمنٹس یونٹس کے لیے ایک عملی KPI:
- Schedule recovery time (بحران کے بعد شیڈول نارمل ہونے میں کتنے دن لگے)
- AI کے بغیر یہ اکثر 7–14 دن ہوتا ہے؛ اچھے ڈیجیٹل سسٹمز کے ساتھ اسے 2–5 دن تک لایا جا سکتا ہے (آپ کی complexity پر depend کرتا ہے)۔
2) Real-time shopfloor visibility: “کہانی” نہیں، ڈیٹا
جواب: جب ڈیٹا live ہو تو میٹنگز کم اور فیصلے تیز ہوتے ہیں۔
سیاسی/سیکیورٹی disruption میں سب سے بڑا جھگڑا ایک ہی ہوتا ہے: “اصل میں ہوا کیا ہے؟”
AI + IoT/ERP signals سے آپ یہ live دیکھ سکتے ہیں:
- لائن کی پیداوار (output/hour)
- absenteeism pattern (شفٹ کے حساب سے)
- machine downtime اور اس کی وجہ
- rework اور defect hotspots (operator/operation level)
یہاں AI کا کام صرف ڈیش بورڈ نہیں—AI anomaly detection کے ذریعے بتا دیتا ہے کہ آج defect rate کیوں بڑھا اور کون سی operation خطرے میں ہے۔
پاکستان میں اس کا سیدھا فائدہ یہ ہے کہ بندش کے خطرے میں بھی آپ minimum viable operations چلا سکتے ہیں: یعنی وہ orders جو کم risk اور زیادہ value والے ہوں، انہیں priority ملتی ہے۔
3) AI for quality control: بحران میں ریجیکشن “مہنگا” ہو جاتا ہے
جواب: disruption کے دوران کوالٹی slips تیزی سے بڑھتی ہے، اور AI اسے early stage پر پکڑتا ہے۔
جب فیکٹری میں افراتفری ہو تو “آخر میں 100% inspection” آپ کو نہیں بچاتی—کیونکہ تب تک late ہو چکا ہوتا ہے۔ AI-enabled inline inspection اور defect prediction سے آپ:
- fabric faults کو cutting سے پہلے flag کر سکتے ہیں
- stitching میں recurring issues کو operator coaching سے ٹھیک کر سکتے ہیں
- shipment سے پہلے surprise rejection کے امکانات کم کرتے ہیں
پاکستانی ایکسپورٹرز کے لیے یہ بات خاص اہم ہے کیونکہ chargebacks، air shipment، اور rework کی قیمت بحران میں double محسوس ہوتی ہے—کیش فلو پہلے ہی دباؤ میں ہوتا ہے۔
4) Compliance & audit readiness: ہنگامی حالات میں بھی credible رہیں
جواب: بائرز کو “ہم بند تھے” نہیں، “ہم کنٹرول میں تھے” سننا ہوتا ہے۔
بنگلہ دیش کی خبر میں industry bodies نے بعض علاقوں میں عارضی بندش کی ہدایات کا ذکر کیا۔ ایسے حالات میں کمپلائنس کی narrative اہم ہو جاتی ہے: worker safety، wage continuity، اور security protocols۔
AI یہاں دو طریقوں سے مدد کرتا ہے:
- Automated documentation: attendance، training logs، incident reports، corrective actions—سب ایک جگہ، ٹائم اسٹیمپ کے ساتھ
- Risk scoring: کون سا یونٹ/سپلائر high risk ہے، کہاں remediation چاہیے
اگر آپ EU کی طرف DPP (Digital Product Passport) جیسی requirements کو ذہن میں رکھیں تو یہ capability صرف “audit” کے لیے نہیں—یہ آپ کے future market access کے لیے ہے۔
5) Digital communication with buyers: اعتماد کی کرنسی
جواب: بحران میں بہترین کمیونیکیشن وہ ہے جو ایماندار، باقاعدہ، اور ڈیٹا بیسڈ ہو۔
میرے تجربے میں بائرز دو چیزوں سے متاثر ہوتے ہیں:
- آپ کتنی جلدی مسئلہ declare کرتے ہیں (late نہیں)
- آپ کتنی تیزی سے alternative plan دیتے ہیں (صرف apology نہیں)
AI-enabled buyer updates کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ہر روز “AI نے کہا” لکھیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس:
- PO-level ETA predictions
- risk heatmap (red/amber/green)
- corrective plan (split shipment, alternate line, subcontract allocation)
یہ چیزیں آپ کو sourcing teams کے سامنے mature supplier بناتی ہیں—خاص طور پر جب ریجن میں عدم استحکام ہو۔
پاکستان کے گارمنٹس مینیجرز کے لیے 30 دن کا عملی ایکشن پلان
جواب: آپ کو پوری فیکٹری ‘AI’ نہیں بنانی—ایک مسئلہ چنیں، measurable pilot چلائیں، پھر scale کریں۔
یہ 30 دن کا practical sequence میں نے کئی ٹیموں کے لیے کارآمد پایا ہے:
-
Day 1–5: Disruption map بنائیں
- top 10 failure points: transport، absenteeism، power، trims delay، fabric QC، etc.
- ہر پوائنٹ کے لیے “signal” لکھیں (کون سا data early warning بن سکتا ہے)
-
Day 6–15: One pilot choose کریں
- مثال: inline defect detection یا ETA prediction
- KPI fix کریں: defect rate، rework minutes، schedule adherence، OT cost
-
Day 16–25: Data hygiene + ownership
- ایک data owner، ایک process owner
- daily 15-min review: AI outputs کے ساتھ فیصلے
-
Day 26–30: Buyer-ready reporting template
- PO status، risk notes، corrective actions
- ہفتہ وار cadence set کریں
اگر آپ یہ صحیح کرتے ہیں تو AI “tool” نہیں رہتا—آپ کی آپریشنل زبان بن جاتا ہے۔
عام سوالات (جو فیکٹری فلور پر واقعی پوچھے جاتے ہیں)
کیا AI چھوٹی اور مڈ سائز فیکٹری کے لیے بھی ممکن ہے؟
ہاں، بشرطیکہ آپ ایک narrow use-case سے شروع کریں۔ میں small setups میں quality + planning کے pilots زیادہ کامیاب دیکھتا ہوں، کیونکہ ان کا ROI جلد نظر آتا ہے۔
کیا AI کا مطلب نئی مشینری ہے؟
ہر بار نہیں۔ کئی AI use-cases موجودہ ERP/production data اور simple cameras/sensors سے چل جاتے ہیں۔ بڑی capex تب چاہیے جب آپ deep automation چاہتے ہیں۔
سب سے بڑا خطرہ کیا ہے؟
AI نہیں، process discipline کی کمی۔ اگر data late، غلط، یا inconsistent ہے تو AI آپ کو confidently غلط جواب دے گا۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے لیے اگلا قدم
بنگلہ دیش کی بندش نے ایک غیر آرام دہ حقیقت دکھا دی: South Asia میں sourcing صرف cost کا کھیل نہیں رہا—reliability کا کھیل ہے۔ اور reliability کا مطلب ہے کہ آپ disruption کو detect کریں، quantify کریں، اور communicate کریں—تیزی سے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں مصنوعی ذہانت پاکستان کی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس صنعت کو عملی فائدہ دے رہی ہے: predictive planning، real-time monitoring، automated quality control، اور buyer communication کے ذریعے۔
اگر آپ اس سیریز کو follow کر رہے ہیں تو آپ نے ایک pattern محسوس کیا ہوگا: AI کا بہترین استعمال وہ ہے جو فیکٹری کے روزمرہ فیصلوں میں بیٹھ جائے۔ آپ کی فیکٹری میں آج کون سا ایک فیصلہ ہے جو “guess” پر چل رہا ہے—اور جسے آپ اگلے 30 دن میں “data” پر لا سکتے ہیں؟
اگر آپ اپنی فیکٹری/یونٹ کے لیے 60 منٹ کی “AI readiness” ورکشاپ چاہتے ہیں تو اپنی پروڈکٹس (woven/knit/denim)، لائنز کی تعداد، اور موجودہ ERP/Excel ورک فلو شیئر کریں—میں آپ کو 3 ممکنہ pilots اور ان کے KPIs کی مختصر تجویز دے دوں گا۔